الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

صحت کے ساتھ نہ پڑھنے والے کی امامت

سوال

جو شخص قرآت صاف صحت کے ساتھ نہ پڑھا سکے یعنی اور ع ت اور طَ تَ اور س ح اورہ اور ضَ، ذ، ز، ظ میں فرق نہ کرے تو ایسے امام کی اقتداء کرنی درست ہے یا نہیں اور اگر بعض لوگ بستی والے ایسے امام کو رکھیں تو ان کا گناہ امام پر یا بستی والوں پر ہوگا۔

جواب

اگر اس سے بہتر مسائل سے واقف قرآن صحیح پڑھنے والا متبع سنت ہے تو اس کو امام بنانا چاہئے اور امام مذکور کو امامت سے علیحدہ کر دیا جائے۔ بشرطیکہ اس میں فتنہ نہ ہو۔ اگر اس سے بہتر امامت کے لائق دوسرا شخص موجود نہ ہو بلکہ سب اسی طرح پڑھنے والے ہیں تو پھر اس کی امامت میں بھی مضائقہ نہیں۔ لیکن صحیح حروف کی کوشش بہر حال لازم ہے جس کا تارک گنہگار ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو