الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

میراثی کی امامت

سوال

ہماری مسجد میں جو امام ہیں قوم کے میراثی ہیں، گانا بجانا تو کچھ نہیں کرتے ان کے یہاں پردہ بھی ہوتا ہے مگر اس کے پاس چار بیگہ زمین خدمتی دی ہوئی ہے پہلے اس کے باپ کے پاس رہا کرتی تھی اس کا انتقال ہو گیا ہے اس کا حق اس کے پاس آ گیا وہ ہماری خدمت کرے تھا ویسے حافظ بھی ہے۔ اس کو مسجد میں امام رکھنا چاہئے یا نہیں۔ اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نا جائز؟

جواب

البتہ اگر کسی جگہ ان صفات کا آدمی نہ ہو تو ایسے حافظ کو امام بنانے میں بھی مضائقہ نہیں جیسا کہ سوال میں مذکور ہے بشرطیکہ کوئی اور شرعی قباحت موجود نہ ہو۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو