الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

امام پر غلط الزام

سوال

خلاصہ سوال یہ ہے کہ ہماری مسجد کے امام صاحب ایک متقی عالم ہیں۔ ایک بدمعاش نے ان سے گھڑی چھین لی۔ جب معاملہ بڑھا تو یہ الزام لگایا کہ انہوں نے مجھ سے بدفعلی کی اس لئے میں نے گھڑی چھین لی ہے۔ مگر امام صاحب نے حلفیہ بیان دیا کہ یہ قطعاً جھوٹ ہے میں اس الزام میں بری ہوں اور لوگوں کا اندازہ ہوا کہ یہ شخص مختلف بہانے کر کے لوگوں کو لوٹتا رہتا ہے۔ پھر پنچایت ہوئی مگر پنچایت نے بھی مولوی صاحب کو بری رکھا۔ اس مردود نے کپڑے پر پانی ڈال لیا اور کہتا تھا کہ دیکھو بدفعلی کی نشانی ہے۔

جواب

اتنا بڑا جرم ثابت کرنے کے لئے اس بے شرم نے یہ بیان دیا اور اس طرح ہرگز کافی نہیں۔ کپڑے کا بھیگا ہونا شرعی دلیل نہیں ہے۔ پھر جب اس حیا سوز بے دلیل دعوی کی تردید کے لئے حلفیہ بیان موجود ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس گندے الزام کو ان پر عائد کیا جائے۔ ۲۔ مذکورہ بنیاد پر مصلیٰ سے ہٹانے کا ہر گز حق نہیں، ان کی اذان وامامت درست ہے ان کو جس نے ہٹایا ہے وہ مجرم ہے اس کو توبہ کرنا چاہئے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو