کیا چار قوموں کے علاوہ کے پیچھے نماز درست نہیں؟
سوال
مولانا تھانوی نے جو کسی وقت میں فتوی دیا تھا کہ چار قوموں کے علاوہ کسی اور قوم کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔ وہ فتوی ایک شخص کے پاس ہے۔ کیا واقعی نماز نہیں ہوتی۔ اگر نہیں ہوتی تو تفصیل سے بیان فرمائیں اور وہی شخص کہتا ہے کہ امامت کے بجائے بھنگی کا پیشہ کرے تو امامت سے اچھا ہے۔ کیا یہ فاسق ہے؟ تو کس درجہ کا ہوگا؟ تفصیل سے بیان کریں، نیز وہی شخص نماز ہوتے وقت آگے یا پیچھے نماز پڑھ کر چلا جاتا ہے۔ جماعت کا کوئی احترام نہیں کرتا۔ تو وہ کس درجہ کا فاسق ہوگا؟
جواب
جس شخص میں امامت کی صفات موجود ہوں اس کی امامت درست ہے خواہ وہ کسی قوم سے ہو۔ حضرت مولانا تھانوی کا کوئی فتویٰ ایسا نہیں ہے کہ چار قوموں کے علاوہ کسی اور قوم کے پیچھے نماز درست نہیں ہے۔ امامت کی صفات ہوتے ہوئے محض قومیت کی وجہ سے جماعت کو ترک کرنا بہت بڑی محرومی ہے۔ جو آدمی ہمیشہ ایسا کرتا ہو اس کی شہادت قبول نہیں ہے گنہگار ہے اس کو توبہ لازم ہے۔ جماعت کو ترک نہ کرے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔