محض ضد میں طلاق دینے والے کی امامت
سوال
ایک شخص مولوی عالم ہو کر اپنی عورت کو محض اس وجہ سے طلاق دی کہ میرے بہنوئی نے میری بہن کو طلاق دی ہے یعنی ایک کی بہن دوسرے کو بیاہی تھی جب پہلے اس نے مولوی صاحب کی بہن کو طلاق دے دی ہے تو مولوی صاحب نے بھی ضداً اس کی بہن کو طلاق دیدی پھر علاوہ ازیں مہر خرچ وغیرہ نہیں دیتا تو ایسے ظالم کے پیچھے نماز پڑھنا اور سلام طعام کا معاملہ رکھنا کیسا ہے؟
جواب
جو لوگ اس ظلم یا اس سے بڑے ظلم (حق اللہ یا حق العباد کے تلف کرنے میں ملوث نہ ہوں ان کو چاہئے کہ ایسے شخص کو اپنی نماز کے لئے امام نہ تجویز کریں۔ سلام طعام ترک کرنے سے بہتر یہی ہے کہ ان کو اصلاح پر آمادہ کریں ورنہ آج کل سلام وطعام کے ترک کرنے سے اصلاح نہیں ہوتی بلکہ بسا اوقات طبیعت میں ضد پیدا ہو جاتی ہے خاص کر اہل علم حضرات جن کا کسی صاحب نسبت بزرگ سے اصلاحی تعلق نہ ہو اور وہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔