الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سوتیلی نانی سے نکاح پڑھانے والے کی امامت

سوال

ایک شخص نے اپنی ماں کی ماں سے یعنی سوتیلی نانی سے نکاح کر لیا ہے آیا یہ نکاح کیسا ہوا ہے اور سوتیلی نانی محرمات میں سے ہے یا نہیں؟ (۲) اگر محرمات میں ہے تو جس شخص نے اس کا نکاح پڑھایا اور جو لوگ اس میں شامل ہوں ان کے لئے کیا حکم ہے؟ (۳) اگر نکاح پڑھانے والا امام ہو تو اس کے لئے امامت درست ہے یا نہیں اور اگر یہ ثابت ہو جائے کہ سوتیلی نانی محرمات میں سے ہے تو نکاح فسخ کر دیا جائے یا نہیں اور امام صاحب جتنے دن تک لوگوں کو نماز پڑھائے ہیں وہ نماز لوٹانا پڑے گی یا نہیں؟ بینوا توجروا.

جواب

(۱) سوتیلی نانی سے کیا مراد ہے اگر ماں کی سوتیلی ماں یعنی حقیقی نانا کی بیوی پھر تو اس سے نکاح نا جائز ہے حرم اصله وفرعه وزوجة اصله وفرعه ولو بعيداً اھ در مختار۔ اور اگر یہ مراد ہے کہ سوتیلی ماں کی حقیقی ماں یعنی کسی عورت سے اس کے باپ نے دوسرا نکاح کر لیا اس عورت کی حقیقی ماں یا سوتیلی ماں سے اس نے نکاح کر لیا تو یہ نکاح جائز ہے۔ (۲)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو