مطلقہ مغلظہ کو بلا حلالہ رکھنے والے کی امامت
سوال
ایک شخص نے اپنی زوجہ کو طلاق دی اس پر حکم شرعی معلوم کیا گیا تو علماء کرام نے طلاق مغلظہ ثابت کرتے ہوئے حلالہ کا حکم دیا لیکن یہ شخص مذکور حلالہ کو عار خیال کرتا ہے اور تعلق زوجین قائم رکھتے ہوئے اپنے پاس زوجہ کو رکھے ہوئے ہے یہ شخص پنج وقتہ نماز کا امام ہے جمعہ وعیدین وغیرہ کا امام کبھی برابر ہوتا ہے صورت بالا کے ہوتے ہوئے یہ امامت کی اہلیت رکھتا ہے یا نہیں اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں جو نمازیں اس کے پیچھے پڑھی جائیں گی وہ صحیح ہوں گی یا نہیں۔
جواب
جس عورت کو طلاق مغلظہ واقع ہو چکی ہو اس کو بلا حلالہ کے رکھنا حرام ہے اس کی حرمت نص قطعی سے ثابت ہے۔ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ الْآيَةُ پھر جب تک شخص مذکور عورت کو جدا کر کے حرام کاری سے توبہ نہ کرے اس وقت تک اس کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے اس کے پیچھے نماز پڑھنے سے فرض ادا ہو جائیگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔