الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

استاد کے نافرمان شاگرد کی امامت

سوال

ایک استاد مثلاً (زید نے) اپنے شاگرد (مثلاً عمرو) کو کسی ناراضگی کی بناء پر عاق کر دیا کیا عاق کرنا شرعاً کوئی حکم رکھتا ہے بصورت دوم کیا حکم ہے اور اس شخص کو امام مسجد بنانا کیسا ہے جائز ہے یا نا جائز؟ نوٹ: استاذ کی ناراضگی کا سبب یہ ہے کہ شاگرد اپنے استاذ کی زوجہ سے ناجائز تعلق رکھتا ہے۔

جواب

(۱) عاق کہتے ہیں نافرمان کو، شاگرد صورت مسئولہ میں یقیناً ایسی حرکت کا مرتکب ہے کہ جو استاد کی ناخوشی کا موجب ہے۔ شاگرد کو ایسی حرکت سے توبہ کرنا اور استاد کو راضی کرنا ضروری ہے جب تک وہ توبہ نہ کرے تب تک اس کو امام نہ بنانا چاہئے۔ بعد توبہ اس کی امامت درست ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو