جس کو امام کے گناہ کا علم ہے اس کا امام کے پیچھے اقتداء کرنا
سوال
نعوذ باللہ زید زانی ہے اس کا علم سوائے عمر کے کسی کو نہیں ہے زید امام ہے عمر چاہتا ہے کہ اس کی برائی ظاہر نہ ہو اور عمر اگر اس کے اس فعل کے بعد اقتداء نہ کرے تو اس کی برائی ظاہر ہو جائے گی اس بناء پر یہ اقتداء کرتا ہے تو کیا ان کا یہ ارادہ درست ہے یا نہیں؟ اگر صحیح ہے تو یوم القیامۃ میں مستحق شر ہوگا یا خیر؟
جواب
اس کو نرمی اور شفقت سے سمجھائے۔ نیز یہ کہ منصب امامت جلیل منصب ہے اس کا بھی لحاظ ضروری ہے۔ اگر علم ہو گیا تو مقتدیوں کو بھی نفرت ہو جائے گی۔ خدائے تعالیٰ کا عذاب مستقل ہے۔ اگر امام توبہ کرلے تو بس کافی ہے۔ بات آگے نہ بڑھائیں ورنہ عمر خود نماز دوسری جگہ پڑھ لیا کرے اور دوسرے لوگوں پر امام کی بات ظاہر نہ کرے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔