تین طلاق کے بعد رکھنے والے کے احکام (امامت جنازہ معاشرت وغیرہ)
سوال
(۱) زید نے بقائمی ہوش وحواس معززین شہر کے سامنے بجبر واکراہ تین طلاق دیدی آیا وہ دوبارہ اس مطلقہ کو رکھ سکتا ہے یا نہیں؟ نکاح کر سکتا ہے۔ اگر کر سکتا ہے تو کن شرائط کے ساتھ؟ (۲) اگر زید مذکور تین طلاق کے بعد تجدید نکاح کرے اور دلیل میں یہ کہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ایسا کرنا جائز ہے اس لئے میں نے ایسا کیا کیا یہ قول اس کا معتبر ہے؟ (الف) کیا امام شافعی یا کسی اور امام کا یہ مسلک ہے کہ تین طلاق کے بعد تجدید نکاح کر کے مطلقہ کو رکھے؟ (ب) مقلد امام ابو حنیفہ ہو کر ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ (ج)
جواب
(۱) اس پر طلاق مغلظہ واقع ہوگئی اب اس سے نکاح حرام ہے۔”حَتى تَنْكِحَ زَوْجَاً غَيْرة الآية“. (۲) اگر کوئی شخص بیک لفظ تین طلاق دے مثلا کہے” انتِ طالق ثلاثا تو یہ طلاق مغلظه باتفاق ائمہ اربعہ واقع ہو جاتی ہے امام شافعی کا اس میں اختلاف نہیں۔ ان کے نزدیک بھی تجدید نکاح (بلا حلالہ)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔