غاسل میت کی امامت
سوال
آج کل ائمہ مساجد میں عموماً غسل مردوں کا ان کے ذمہ ہوتا ہے اور ایک مولوی صاحب کہتے ہیں کہ غاسل میت کے پیچھے نماز بالکل جائز نہیں اگر جائز نہیں تو دیہاتی امام محض اسی لئے رکھے جاتے ہیں۔ کہ اگر غسل میت کو نہ دیں تو ان کو امامت سے علیحدہ کر دیا جاتا ہے۔ مفصل تحریر کریں۔
جواب
غسل وکفن ونماز جنازہ دفن میت سب کا حکم یکساں ہے۔ کذا فی الدر المختار لہذا چاہئے کہ ان میں سے کسی ایک کام کرنے والے کے پیچھے بھی نماز جائز نہ ہو اور مردے بلا غسل، کفن، نماز، دفن ہی پڑے رہا کریں چونکہ جو یہ کام کرے گا اس کے پیچھے نماز درست نہ ہوگی۔ پھر اس غسل دینے والے نے کیا قصور کیا ہے۔ اس سے پوچھیں کہ عدمِ جواز کی وجہ کیا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔