الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

غیر شادی شدہ کی امامت

سوال

ایک شخص رنڈوہ ہے اور ذی علم عاقل بالغ جوان عمر مرد ہے نامرد بھی نہیں ہے ایسے شخص کو ہمیشگی کیلئے پیش امام بنانا کیسا ہے۔ شادی کا نام بھی نہیں لیتا کیا نماز شادی شدہ شخص کے پیچھے فضیلت وشان رکھتی ہے یا کچھ فرق ہے۔ عند الشرع الشریف جواب از حوالہ تحریر فرمائیں۔ بينوا توجروا

جواب

اگر اس کو شہوت کا غلبہ نہیں تو اس کے ذمہ شادی ضروری نہیں۔ اور اس سے اس کی امامت میں خلل نہیں آتا البتہ اگر اس کو شہوت کا غلبہ ہے اور خیالات پراگندہ رہتے ہیں تو بہ نسبت اس کے ایسے شخص کو امام بنانا افضل ہے جس کی بیوی موجود ہے اور خیالات پراگندہ نہیں رہتے بلکہ اس کو اطمینان حاصل ہے اور امامت کی اہلیت بھی رکھتا ہے

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو