الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کرتا کا بٹن کھول کر نماز پڑھانا

سوال

زید اپنے کرتہ کا اوپر کا بٹن ہمیشہ کھلا رکھتا ہے اور اس طرح کھلے بٹن سے نماز مکروہ ہوتی ہے۔ جب لوگ اس سے کہتے ہیں کہ تم بٹن کیوں نہیں لگاتے اس طرح کھلے بٹن سے نماز مکروہ ہوتی ہے۔ تو جواب دیتا ہے کہ اوپر کا بٹن کھلا رکھنا مسنون ہے جناب نبی کریم ﷺ نے اپنی قمیص کی اوپر کی گھنڈی کا تکمہ لگا کر کبھی گلے کو بند نہیں فرمایا اور نہ ہی یہ عمل نماز میں کراہت پیدا ہونے کا باعث ہے نماز میں سدل کو مکروہ کہا گیا ہے اور کرتہ کا گریبان بٹن نہ دے کر کھلا رکھنا سدل میں داخل نہیں سدل میں چادر لمبے اچکن کی صورتیں آتی ہیں۔

جواب

گریبان کی گھنڈی کا تکمہ نہ لگا نا حضور ﷺ سے ثابت ہے۔ معاویہ ابن قرۃ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: قال اتیت رسول الله ﷺ في رهط من مزينة فبايعناه وان قميصه لمطلق الازرار اى مفتوحها يعني كان جيب قمیصه غیر مشدود وكانت عادة العرب ان تكون جيوبهم واسعة فربما يشدونها وربما يتركونها مفتوحة۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو