نماز کے لئے خریدی ہوئی جگہ میں جماعت ثانیہ کا حکم
سوال
(۱) مسئلہ یہ ہے کہ ایک گھر کو خرید کر مسجد کی طرح نماز کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اسکے دو حصہ ہیں اور باہر سے اگر کوئی دیکھے تو دو عمارت نظر آتی ہیں جسکی شکل اس طرح ہے: جماعت خانہ میں اگر نماز ہو گئی با جماعت تو کیا یہ دوسرا حصہ جو مدرسہ کے لئے استعمال ہوتا ہے دوسری جماعت کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
(۱) وقت ضرورت عمارت مدرسہ میں بھی جماعت درست ہے امام سے آگے ہونے سے مقتدی کی نماز درست نہیں ہوگی نماز جمعہ کوہ بجگانہ نماز کی طرح نہ بنایا جائے کہ اگر مسجد میں جماعت نہ ملی تو مدرسہ میں جماعت کرلی، البتہ فیکٹری کے اوقات کی رعایت کر کے دو جگہ مستقلاً نماز جمعہ کو تجویز کر لیا جائے کہ اتنے بجے فلاں جگہ ہوگی، اتنے بجے فلاں جگہ ہوگی، ہر جماعت جمعہ کیلئے اذان کی جائے اور خطبہ بھی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔