دو مسجدیں ملی ہوئی نئی مسجد میں جماعت ثانیہ
سوال
قدیم مسجد میں عذر سے تنگی کے باعث بازو میں مسجد ثانی موسوم کر کے جدید مسجد تعمیر کی ہے، یہ تعمیر قدیم ہی مسجد کی ہے، چونکہ بعض لوگوں کی جماعت چوک جاتی ہے تو اس لئے اس نئی مسجد میں لوگ جماعت ثانیہ کر لیتے ہیں، تو کیا یہ جائز ہے؟
جواب
اگر جدید وقدیم دونوں مسجدوں میں مستقل اذان، نماز، جماعت کا اہتمام ہوتا ہے اور پابندی سے ہوتی ہے تو دوسری جماعت کسی میں نہ کی جائے، اگر دونوں کا امام ومؤذن ایک ہی ہے اور ایک ہی جماعت ہو تو محض بعد کے اضافہ ہونے کی وجہ سے وہ دوسری مسجد مستقل مسجد نہیں ہے بلکہ دونوں مل کر ایک ہی مسجد ہے، وہاں جماعت ثانیہ نہ کی جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔