بریلوی امام ہونے کی وجہ سے جماعت ثانی کرنا
سوال
ہمارے یہاں دو عقیدے کے لوگ ہیں (دیوبندی، بریلوی) بریلوی والے جہلاء لوگ ہیں اور مسجد میں قبضہ جمائے ہوئے ہیں امامت کرتے ہیں دیوبندی علماء کو کافر اور حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں علاوہ ازیں دیوبندی علماء تنازع اور تصادم کی وجہ سے جماعت میں شریک ہونے سے گریز کرتے ہیں اس حالت میں ہم چند عوام جو جماعت سے محروم رہ جاتے ہیں حالانکہ دیوبندی علماء بھی موجود ہیں۔ اس لئے ہم جماعت اولی ترک کر کے جماعت ثانیہ سے نماز ادا کرتے ہیں ایسا کرنا درست ہے یا نہیں؟
جواب
بریلوی لوگوں کے اس تشدد کے باوجود یہ طریقہ اختیار نہ کیا جائے کہ وہ لوگ وہاں جماعت سے نماز پڑھیں اور آپ لوگ بیٹھے رہیں۔ پھر ان کے بعد اپنے امام کے پیچھے جماعت ثانی کریں یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے، یا تو ان کے امام کے پیچھے نماز پڑھیں یا دوسری مسجد میں پڑھیں اور اعلیٰ بات یہ ہے کہ ان کے امام کی اصلاح کریں کہ وہ فتنہ کی بات نہ کہے اور عقیدہ صحیح کرے اور اس کو جو غلط فہمی ہو اس کو اہل…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔