الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

محراب سے ہٹ کر جماعت ثانیہ کرنا

سوال

یہاں کے ایک عالم نے جماعت ثانیہ کا فتوی دیا ہے۔ مسجد میں ایک دفعہ جماعت مع اذان واقامت ہو چکی ہو تو پھر اس میں دوسری جماعت کرنا کیسا ہے؟

جواب

اگر یہ مسجد محلہ کی ہو جس میں امام ومؤذن اور نمازی معین ہیں تو جماعت ثانی محراب سے ہٹ کر بغیر دوسری اذان کے بالاتفاق وبالاجماع جائز ہے دوسری اذان کے ساتھ اس مسجد میں جماعت ثانی مکروہ تحریمی ہے اگر یہ مسجد ایسی ہے جس میں نہ امام مقرر ہے نہ مؤذن نہ نمازی تو اس میں دوسری اذان کے ساتھ جماعت بلا کراہت درست ہے (عالمگیری شامی)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو