ظہر وعشاء پڑھ کر پھر اسی جماعت میں شرکت
سوال
ایک بار ظہر یا عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھ لینے کے بعد دوبارہ اس نماز کی جماعت میں شریک ہوسکتا ہے یا نہیں؟ زید کہتا ہے کہ شریک ہو سکتا ہے جماعت کے ساتھ پڑھی یا تنہا اس کی دلیل یہ حدیث ہے۔ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى بِالنَّاسِ وَدَخَلَ شَخْصٍ بَعْدَمَا صَلَّى النَّاسُ يَقُولُ مَنْ يَتَصَدَّقُ عَلى هذا فَيُصَلَّى مَعَهُ فَيَقُوْمُ النَّاسُ يُصَلِّي جَمَاعَةً ثَانِيَةً – عمرو کہتا ہے کہ اگر جماعت کے ساتھ پڑھی تو شریک نہیں ہوسکتا اگر تنہا پڑھی تو شرکت دوبارہ روا ہے اور یہ حدیث…
جواب
اگر بہ نیت فرض شریک ہوتا ہے تو دونوں کا قول غلط ہے لا یصلی بعد صلوۃ مثلہا اگر بہ نیت نفل شریک ہوتا ہے تو زید کا قول صحیح ہے۔ عمرو کی بیان کردہ تفصیل غلط ہے۔ رجل دخل مسجداً قد اذن فيه كره له ان يخرج حتى يصلى فان كان قد صلى وكانت الظهر والعشاء فلا بأس بان يخرج ما لم يأخذ فى الاقامة فان اخذ فيها لم يخرج حتى يصليهما تطوعاً۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔