الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

آپسی جھگڑے کی وجہ سے تکرار جماعت

سوال

زید اور عمر وبکر کے مابین ایک عرصہ سے معاملاتی نزاع چل رہی ہے جس کی بناء پر عمرو بکر وغیرہ بجائے ایک جمعہ وجماعت کے علیحدہ طور پر ایک ہی مسجد میں دو جمعہ وجماعت زید مذکورہ بالا امام سے علیحدہ قائم کریں کہ جس پر ایک غیر مسلم شخص نے دونوں فریقوں کو بلا کر یہ کہا کہ تم لوگ آپس میں جھگڑا نہ کرو ایک ہی مسجد میں علیحدہ علیحدہ طور پر نماز پڑھ لیا کرو تو اس کے جواب میں زید مذکورہ امام نے یہ کہا کہ ہمارے مذہب میں اللہ ورسول کی طرف سے قرآن وحدیث مسئلہ و مسائل سے ایک ہی مسجد میں دو جمعہ و جماعت جائز نہیں ہے اب اس کے جواب میں…

جواب

ایک مسجد میں تکرار جماعت حنفیہ کے نزدیک مکروہ تحریمی ہے لہذا اس سے اجتناب ضروری ہے۔ ویكره تكرار الجماعة باذان واقامة في مسجد محلة درمختار قال الشامي قوله (ويكره) اى تحريماً لقول الكافي لايجوز والمجمع لا يباح وشرح الجامع الصغير انه بدعة كما فى رسالة السندى والمراد بمسجد المحلة ماله امام وجماعة معلومون كما فى الدرر وغيرها الى ان قال ومثله في البدائع وغيرها ومقتضى هذا الاستدلال…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو