الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ہاتھوں، پیروں اور گھٹنوں کے درمیان سجدے میں فرق

سوال

حضرت مفتی صاحب زید مجدہم السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته جناب کا فتوی ۶۲ / جس کا سوال میرے عزیز القدر برادر ثانی نصیر احمد متعلم مدرسہ ہذا نے پیش کیا تھا بالکل بحیثیت فتویٰ درست ہے، البتہ میرے دل میں جو تردد ہے اس کو عزیز المذ کور نے سوال میں پیش نہیں کیا، یہاں بوجہ عدم سامان کتب معذور ہوں، اس واسطے مکرر عرض ہے کہ مطابق روایت مسلم شریف کہ وه ” أمرت أن أسجدَ عَلى سَبْعَةِ أَعْظَم“ (الحدیث) ہے یہ حدیث مقتضی فرضیت سبعہ اعظم ہے پس وضع قدمین کو سجدہ میں فرض کہنا اور “وضع یدین“ اور ”رکبتین” کو فرض نہ کہنا کیسا ہے؟

جواب

ص ۶۲ میں شبہ مذکورہ تحریر نہیں تھا بلکہ صرف وضع قدمين ورفع قدمين في السجود کا سوال تھا۔ شبہ مذکورہ کا منشاء بظاہر یہ ہے کہ آپ وضع قدمین فی السجود کی فرضیت کو حدیث” أُمرت أن اسجد“ سے ثابت سمجھ رہے ہیں، اس پر وضع قدمین اور رکبتین اور معطوف و معطوف علیہ کی بحث متفرع ہے، حالانکہ یہ خبر واحد ہے، جس سے فرضیت ثابت نہیں ہوسکتی لہذا اس حدیث سے تو کسی چیز کی بھی فرضیت ثابت نہیں، سجود کی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو