ترک رکوع اور ترک قعدہ اولیٰ کا حکم
سوال
جو شخص عمدا امام کے ساتھ رکوع میں شامل نہ ہوا، اور قراءت میں مشغول رہا تو اس کی نماز ہوئی یا نہیں؟ اور یہ مسئلہ متفقہ بین الائمۃ الاربعہ ہے یا نہیں؟ فساد صلوۃ کی صورت میں، اسی طرح اگر کوئی شخص قعدہ اولی میں عمداً نہ بیٹھے اس کا کیا حکم ہے؟
جواب
امام کے پیچھے قراءت کی اجازت نہیں، پھر اس میں مشغول رہنے کی وجہ سے رکوع میں شریک نہ ہونے کا کیا مطلب ہے، اگر رکوع ترک کر دیا تو ترک فرض کی وجہ سے نماز باطل ہوگئی قعدہ اولیٰ واجب ہے، عمدا ترک واجب سے فرض ذمہ سے ساقط ہو جاتا ہے، اور اعادہ واجب ہوتا ہے،” وحکم الواجب استحقاق العذاب بتركه عمداً او عدم اکفار جاحدة والثواب بفعله ولزوم سجدة السهو لنقص الصلواة بتركه سهواً واعادتها…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔