ايضاً / سجدہ میں انگلی ٹیکنا
سوال
سجدہ میں پاؤں کی انگلیوں کو زمین سے لگانے نہ لگانے سے متعلق شرعی حکم کیا ہے؟ کس مقدار تک لگانے میں فرض ادا ہوتا ہے، اور کتنے ہیں واجب اور کس قدر لگانا سنت ہے؟ ایک مولوی صاحب کا کہنا ہے کہ صرف اگر ایک انگلی زمین سے لگ گئی تو نماز ہو جائے گی، دوسرے مولوی صاحب یہ کہتے ہیں کہ صرف فرض کی ادائیگی سے نماز نہیں ہوتی، بلکہ واجبات کا ادا کرنا بھی ضروری ہے، اگر ترک واجب عمداً ہے تو نماز فاسد ہوگئی اور سہوا ہے تو سجدہ سہو لازم ہے، اور عدم ادائیگی سجدہ سہو پر اعادہ نماز واجب ہے، اپنے ثبوت میں حسب ذیل کتابوں کی عبارتیں پیش کرتے…
جواب
بعض کتب فقہ میں سجدہ میں دونوں پیروں کو زمین پر رکھے رہنا فرض لکھا ہے، جس کا تقاضہ یہ ہے کہ اگر پیر اُٹھ جائے تو ترک فرض کی وجہ سے نماز ہی باطل ہو جائے۔ لیکن بحر میں اس قول کو ضعیف قرار دیا ہے،” وذکر القدوری ان وضعهما فرض وهو ضعيف ” البحر الرائق، ج ۱/ص ۳۱۸ اگر پیروں کی کوئی انگلی بھی نہ ٹھہری رہے، بلکہ دونوں پیر کلیاً اُٹھ جائیں تو جائز نہیں، نماز فاسد ہو جائے گی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔