اگر مسجد میں امام ومؤذن نہ ہوتو وہاں اذان واقامت کہہ کر نماز ادا کرے
سوال
اگر گھر سے مسجد تقریبا دو فرلانگ ہو اور وہاں کی نماز کا کوئی وقت امام موذن کچھ نہ ہوا ایسی حالت میں اگر گھر میں اذان کہے اور گھر میں جماعت کرے جس میں بیوی ماں بچے ہوں تو ظاہر ہے کہ اقامت ماں بیوی کہیں گی کیا یہ مکروہ ہے؟ جماعت أفضل ہوگی یا انفراد۔
جواب
ایسی حالت میں مسجد جا کر اذان واقامت کہہ کر نماز پڑھنا أفضل ہے اگر چہ وہاں تنہا ہی نماز پڑھنے کا موقع ملے کہ اس میں مسجد کی آبادی ہے مکان پر تنہا یا جماعت سے پڑھنے سے وہ فضیلت نہیں ہوگی۔ مکان پر جماعت کرتے وقت مرد جبکہ امام بنتا ہے تو خود ہی اقامت بھی کہہ لے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔