اگر اذان سے جھگڑے کا اندیشہ ہو تو کیا کرے
سوال
ایک شخص ایسے محلہ میں ہے کہ وہاں آواز اذان آتی ہی نہیں تو اس کیلیے کیا حکم ہے؟ اور اگر اذان دینے سے اہل ہنود سے نزاع کا اندیشہ ہو، (لكثرتهم وغلبتهم) تو ایسا شخص کیا کرے۔
جواب
ایسے شخص کو خود اذان واقامت کہہ کر نماز پڑھنا چاہئے کیونکہ اذان کی آواز آتی ہی نہیں تو وہ اس کے حق میں بمنزلہ عدم کے ہے۔ کذا فی العبارة المذكورة من رد المحتار - جب نزاع کا ظن غالب ہے اور اس کا نتیجہ اس کے حق میں نقصان اور مغلوبیت ہے، تو اذان زیادہ بلند آواز سے نہ کہے بلکہ معمولی طریقے سے کہدے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔