الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

برما میں ناجائز عقود کا جواز

سوال

برما میں بعض عالم کافروں کے ساتھ سودی معاملات کرنا جائز اور سود کھانا حلال اور مردار کا گوشت وغیرہ فروخت کرنا حلال اور سور کے گوشت کی سپلائی کرنا حلال کہتے ہیں، ایسے علماء کی شریعت کی نظر میں کیا سزا ہونی چاہئے، اور ان کے ساتھ کیا معاملہ ہونا چاہئے، ان کی باتوں کو سنکر جو لوگ مذکورہ کاموں کو کرتے ہیں، ان کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

ان عالموں سے اسکے جواز کی دلیل دریافت کر کے لکھئے تا کہ اس میں غور کیا جائے، ان چیزوں کا ناجائز اور حرام ہونا تو قرآن کریم حدیث اور فقہ سے واضح ہے۔ پھر وہ کس بنیاد پر جائز کہتے ہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو