الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عالم کو فاقہ کشی کی حالت میں سود کا روپیہ لینا اور گزارہ کرنا

سوال

زید ایک مولوی صاحب ہیں، بہت مفلس آدمی ہیں، ان کے ساتھ والدین بیوی، بچے ہیں، کوئی ذریعہ معاش نہیں، فاقہ پر فاقہ ہے، بہت مجبوری ہے، لہذا سودی روپیہ اور سودی غلہ کے مقروض بھی ہو گئے، ایسے نازک حالات میں بکر نے مولانا صاحب سے کہا کہ مولانا یہ پانچ روپیہ لیجئے، اس سے فلاں کی سند (سارٹیفیکٹ)

جواب

سود دینا، رشوت دینا، دوسرے کی سند خرید کر اپنی سند بنا کر دھوکہ دینا یہ سب باتیں نا جائز اور حرام ہیں، حرام طریقہ اختیار کرنے سے عامہ حلال آمدنی حاصل نہیں ہوتی، گو بظاہر آمدنی کا راستہ کھل جاوے مگر اس میں خیر و برکت نہیں ہوتی، اپنے مصارف میں احتیاط اور کفایت لازم ہے، تنگی، ترشی برداشت کر کے مصارف کو مختصر کیا جاوے، جو کچھ ہو گیا اس پر ندامت کے ساتھ توبہ اور استغفار لازم ہے،…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو