فساد معاشرہ کے وقت علماء کی ذمہ داری
سوال
آج کے معاشرہ میں بہت سی ایسی چیزیں ضروریات میں شامل ہیں کہ جن کو شرعاً ضروریات میں شامل کرنا تامل ہوتا ہے، مگر رواج میں ضروریات میں داخل ہیں، مثلاً لباس کے مسئلہ میں شرعاً ستر پوشی کی حد تک ضرورت ہے، اس میں لباس کی وضع قطع وغیرہ کو کوئی دخل نہیں مگر رواج میں اپنے وقار کے مطابق کپڑا پہننا پڑتا ہے، اسی طرح طعام وغیرہ اور زندگی کی دوسری ضروریات میں کہ اس کے ملحوظ رکھنے پر انسان مجبور ہوتا ہے، اور اگر ایسا نہ کرے تو ذلیل اور حقیر کہلائے قرون اولیٰ کے لوگوں کی معاشرت اگر عقلاً محال نہیں تو عملاً ناممکن ضرور ہے، دیندار…
جواب
معاشرہ اگر عوام و خواص کا بگڑ جائے تو اس کی اصلاح ضروری ہے نہ یہ کہ اس کی خاطر نصوص میں ترمیم کی جائے، ورنہ جو حال علمائے بنی اسرائیل کا ہوا، اس کے برداشت کرنے کی طاقت کسی میں ہے انہوں نے اولاً عوام کو معاصی سے روکا وہ باز نہیں آئے، تو انہیں کے اکیل شریب جلیس بن گئے، روکنا چھوڑ دیا تو سب پر لعنت اتری جیسا کہ احادیث میں صاف صاف مذکور ہے، الحاصل معاشرہ کے لحاظ سے عمومی محرمات کے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔