سود کی ایک صورت
سوال
ایک قصاب نے زید سے چند روپے گوشت کی تجارت کے لئے لئے اور یہ شرط کی کہ جب میں دوسرے یا تیسرے روز اپنی گائے ذبح کرونگا تو تمہیں ایک سیر گوشت دیدونگا، پھر ڈیڑھ دو ماہ بعد سب روپے ادا کر دوں گا تو کیا اس گوشت کا جو روپے سے زائد قصاب کی طرف سے مل رہا ہے، اس کا کھانا جائز ہے، اور کیا یہ صورت مضاربہ میں داخل ہو سکتی ہے، اور اگر زید نے اس کو کھا لیا ہے، اور وہ ناجائز ہے تو اس سے اس کے سبکدوش ہونے کی کیا صورت نکل سکتی ہے؟
جواب
یہ سود ہے لہذا نا جائز” كل قرض جرنفعاً حرام درمختار قال الشامی ای اذا كان مشروطاً اه شامی، ص ۲۴۲ ج ۲“ اس سے سبکدوش ہونے کی صورت یہ ہے کہ اس گوشت کی قیمت ادا کر دے یا اس روپیہ میں سے منہا کر دے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔