الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

فساد زدہ مسلمانوں کے لئے مکانات کی تعمیر کرنے میں سود کا پیسہ خرچ کرنا

سوال

احمد آباد بڑودہ وغیرہ کے حالیہ فسادات میں شر پسندوں نے اس حد پر تباہی مچائی جس جگہ مسلم اقلیت میں اور اکا دُکا آباد تھے، اور جس جگہ جتھہ کی صورت میں محلہ کی آبادی مسلم ہوں وہاں شر پسند آتے ڈرتے ہیں یا آتے نہیں بہر حال اس نقصان کے پیش نظر یہ صورت قائم ہوتی ہے کہ وہ اِکا دُکا بسنے والے مسلمان مسلم جتھوں اور محلوں میں آکر آباد ہو جائیں، یہاں پر ایک صاحب کے پاس بہت بڑی زمین ہے جس پر تیس پینتیس مکانات تعمیر ہو کر اتنے ہی خاندان آباد ہو سکتے ہیں، اور مسلمانوں کا ایک اجتماعی جتھا تیار ہو سکتا ہے، مگر آج کل شہروں میں…

جواب

(۱) سودی معاملہ کا حرام ہونا منصوص ہے، مضطر کے لئے حرام شئی کی حرمت مرتفع ہو جاتی ہے، جان بچانے کے لئے حرام شئے کا کھانا ضروری ہو جاتا ہے، جب کہ اس کے سوا چارہ کار نہ رہے مگر اتنی ہی مقدار کی اجازت ہوتی ہے، جس کے ذریعہ جان بچ سکے اس سے زیادہ کی نہیں ہے تجربہ اور مشاہدہ سے جب یہ بات معلوم اور ثابت ہے کہ ایسے مسلمانوں کے تحفظ کی بظاہر اسباب یہی صورت ہے کہ ان کے لئے مکانات ایسی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو