سود کی ایک صورت
سوال
ایک شخص چھالی اور چاول جمع کر کے رکھتا ہے، اور جب لوگ مصیبت یا تنگدستی میں پڑتے ہیں تو اس کے پاس جا کر چھالی یا چاول اُدھار لیتے ہیں، وہ دو تین گنا بازار کے نرخ سے اضافہ سے بیچتا ہے، کیا یہ صورت شرعاً جائز ہے یا نہیں، اس مسئلہ میں علماء کے دو فریق ہیں، اول فریق جواز کا قائل ہے، فریق ثانی اس کو سود کہتا ہے، اور استدلال میں پیش کرتا ہے، ” کل قرض جر نفعا فهواحد وجه من وجوه الربو “ اور شامی میں ہے المعلوم كالمعروف اب آپ سے دریافت طلب بات یہ ہے کہ مذکورہ ربوا النسیئہ میں شامل ہے یا نہیں؟
جواب
اس طرح ادھار بیچنا شرعاً سود نہیں، بلکہ اس طرح بیع درست ہے، البتہ مروت کے خلاف ہے زمانہ گرانی میں غرباء کے ساتھ احسان و مروت کی ضرورت ہے یہ بھی مکارم اخلاق کے لائق ہے۔ درمختار با ب المرابحة والتولية “میں ہے۔” اشتراه بالف نسيئة وباع بربح مائة بلابيان خير المشترى فان تلف المبيع بتعيب اوتعيب فعلم بالاجل لزمه كل الثمن حالاً ”، اس پر علامہ شامی فرماتے ہیں ”قوله خیرالمشتری ای بین…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔