الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ربوا اور قمار کی ایک صورت

سوال

(۱) ایک آدمی نے دس نمبر رکھے ہیں، ایک روپیہ لگاتے ہیں جس کا نام نکلتا ہے، اس کو ۵۰ روپیہ دیتے ہیں جس کا نہیں نکلتا ہے اس کو ساقط کر دیتے ہیں، یہ جائز ہے یا نہیں؟ (۲) اس مسئلہ میں یوں حیلہ کرتے ہیں کہ میں نے ہبہ کر دیا، تو کیا اس طرح ہبہ کر کے دینا جائز ہے؟

جواب

(۱) یہ معاملہ قمار بھی ہے اور ربو بھی، قمار تو اس لئے ہے کہ اگر نمبر نہ نکلا تو جو روپیہ دیا تھا، وہ ضبط ہو جائے گا، اور ربو اس لئے ہے کہ ایک روپیہ کے عوض نمبر نکلنے پر ۵۰ روپیہ ملتے ہیں، اور قمار بھی حرام ہے، اور ر با بھی حرام ہے، ”لقوله تعالى انما الخمر والميسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشيطن فاجتنبوه الآية “ولقوله تعالى احل الله البيع وحرم الربوا . الآية”. (۲)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو