ايضاً
سوال
جنوری ۱۹۶۳ء کے نظام باب الاستفسار میں ایک استفتاء پراویڈنٹ فنڈ کے متعلق نظر سے گذرا جس میں تحریر ہے کہ یہ فاضل رقم جو فنڈ کے طور پر ملازت سے علیحدگی کے بعد ملتی ہے، وہ سود میں داخل نہیں، اس مسئلہ کی ذرا وضاحت فرمادیجئے، فرض کیجئے، فنڈ میں تنخواہ سے مبلغ پانچ پانچ سو روپے کٹا اور سات یا آٹھ سو روپیہ بعد میں ملا تو پانچسو سے جو فاضل رقم ہے، تو اگر سود نہیں تو اور کیا ہے؟
جواب
یہ جز و تنخواہ ملازم نے خود نہیں جمع کیا بلکہ یہ سلسلہ حکومت نے اپنے قانون کے پیش نظر جاری کیا ہے، جس سے ملازم کی خیر خواہی مقصود ہے، جب تک اس پر ملازم کا قبضہ نہ ہو یہ ملازم کی ملکیت نہیں، لہذا اس پر جو کچھ اضافہ ملتا ہے، یہ بھی سود نہ ہوگا، بلکہ یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ بعض محکموں میں ملازمت ختم ہونے پر حسن کارکردگی کے صلہ میں پینشن ملتی ہے، اس کو بھی سود نہیں کہا جاتا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔