الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جواب مذکور پر اشکال

سوال

حضرت اقدس قدس سرہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکا تہ استفتاء کا جواب مل گیا لیکن طالب علمانہ دو خلجان ہیں، پہلا یہ کہ مسلم فنڈ قرض اسی وقت دیتا ہے، جب فارم خرید کر لایا جاوے، یہ بات لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہے اسی پر تعامل ہے، یہ قرض بشرط بیع معلوم ہوتا ہے، اور ”لا یحل سلف وبیع“ کی ممانعت کے تحت داخل معلوم ہوتا ہے، دوسرا خلجان یہ ہے کہ دو معاملے جب الگ الگ درست ہوں تو مجموعہ بھی درست ہو، یہ قاعدہ سمجھ میں نہیں آیا، کیونکہ بیچ اور اعتاق یا بیچ اور اجارہ یا بیع اور اعارہ وغیرہ دونوں الگ الگ صحیح ہوں، اور ان سب کو بیع…

جواب

بیع کا معاملہ ایک شخص سے ہے کہ اس سے فارم خریدیں، پھر اس کو کوئی مطلب نہیں کہ خریدا راس کو استعمال کرتا ہے، یا نہیں یہ بلا شرط ہے، درست ہے اگر چہ بائع وکیل ہو، مقرض کا مگر حقوق عقد بیع (خیار او بالعيب تسلیم بیع قبض ثمن وغیر ہم)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو