الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اشکال باقی ہے

سوال

حضرت والا کی دعاء سے بخیریت پہنچ گیا تھا، مدرسہ کی قریب والی مسجد میں اعتکاف اخیر عشرہ کا کیا ہے، دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں، حضرت مولانا منور حسین صاحب کی خدمت میں سلام مسنون عرض ہے مسلم فنڈ کے فتوی دینے کے بعد حضرت والا نے فرمایا تھا، که مزید سوال کرنا چا ہو تو بھیجو اجازت ہے، اس لئے چند سوالات کرتا ہوں؟ تیسرا سوال یہ تھا کہ قرض کی میعاد ختم ہونے پر ایک دونوٹس دینے کے بعد راہن کی مرضی ہو یا نہ ہو بقدر قرض شئی مرہون کی فروختگی جائز ہے، یا نہیں؟

جواب

عبارت منقولہ سے معلوم ہوا کہ جب اصل قرضہ ورہن میں بطور معاہدہ یہ شرط درج ہے کہ میعاد مقررہ پر اگر قرض واپس نہ کیا تو ہم اسکو یعنی شئی مرہون کو فروخت کر کے اپنا قرض وصول کر لینگے، تو پھر مقرض کو حق ہے کہ حلول اجل پر مرہون کو بحیثیت وکیل راہن فروخت کر دے، اگر راہن اجازت بیچ نہ دے اور دین بھی واپس نہ کرے تو اس صورت میں وکیل معزول نہیں ہوگا وکالت مقررہ سے، یہ صورت وکالت جو کہ ضمن…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو