حلال زمین میں سودی رقم سے کرایہ کی دوکان بنوائی
سوال
زید کے پاس اپنی حلال کمائی کی جگہ میں سود کی رقم سے کرائے کی دوکانیں تعمیر کیں، اور اس کی آمدنی سے زندگی گزارتا ہے، جائز ہے یا نہیں؟ سود کی رقم ادا کرنے کی صورت میں اس کی آمدنی جائز ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو اس کو جائز کرنے کی کیا صورت ہے کوئی دلیل پیش کریں تو عین نوازش ہو گئی؟
جواب
جس قدر سود لیا ہے، اتنی مقدار ان لوگوں کو واپس کر دے جن سے سود لیا ہے، یا واپسی دشوار ہو تو ان کے لوگوں کا علم نہ ہو تو اتنی مقدار غرباء پر صدقہ کر دے پچھلے جس حلال کمائی کی زمین میں سودی روپیہ سے تعمیر کی ہے، وہ سب اور اس کی آمدنی اس کے حق میں درست ہو جائے گی، خلط کو فقہاء نے استہلاک لکھا ہے، جو کہ موجب ملک ہے، یعنی غیر کا روپیہ جو کہ نا جائز تھا، اس کو اپنے جائز روپیہ میں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔