الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سودی معاملہ کی اعانت

سوال

میں نے ایک شخص کو ادھار بیاج پر تین ہزار روپیہ تین ماہ کے لئے دلوایا تھا، مگر روپیہ دینے والے نے بیاج کا معاملہ پہلے ہی کاٹ لیا اور میں نے اس کو تین ہزار روپے اپنے پاس سے ملا کر پورا کر دیا کیونکہ اس کو اتنے روپے کی ضرورت تھی، اب وہ روپیہ مع بیاج کے واپس دے گا، ایسی صورت میں میرے لئے کیا حکم ہے؟

جواب

آپ اپنا روپیہ لے سکتے ہیں مگر اس سودی معاملہ کی اعانت کے گناہ میں آپ کی بھی شرکت ہوگئی، توبہ استغفار ضروری ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو