الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سود کا روپیہ آگیا اس کو کہاں استعمال کیا جاوے

سوال

(۱) سود کا پیسہ گھر کے پاخانہ یا عام پاخانہ یا مسجد کے پاخانہ میں استعمال کرے تو جائز ہے یا نہیں؟ (۲) سود کا پیسہ غریب کافر کو دیدے، تو جائز ہے یا نہیں؟ (۳) سود کا پیسہ غریب کو بغیر ثواب کی نیت کے دیدے تو صحیح ہے کہ نہیں؟ (۴) سود کے پیسے سے راستہ بنائے یا غریب کا گھر بنائے یا راستہ میں لائٹ لگائے تو جائز ہے یا نہیں؟ (۵) غریب کافر یا غریب مسلمان کو سود کے پیسہ سے کپڑا لے دے تو جائز ہے یا نہیں؟ (۶) سود کا پیسہ کرکٹ یا فٹ بال اور کسی کھیل میں دیدے تو جائز ہے یا نہیں؟ (۷)

جواب

(۱) سود لینا دینا حرام ہے، اول تو جس سے لیا ہے اسی کو واپس کر دیا جائے، اگر کسی طرح بینک وغیرہ سے سودی پیسہ آگیا ہے تو اس کو بغیر نیت ثواب غریبوں میں دیدے مسجد یا پاخانہ وغیرہ میں نہ لگے۔ (۲) مسلم غریب کو دیدے۔ (۳) بغیر نیت ثواب دے (۴) غریب کو دیدے پھر وہ چاہے اس کو مکان بنانے میں خرچ کرے یا لائٹ وغیرہ لگانے میں یا راستہ بنانے میں (۵)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو