زندگی کا بیمہ لکھنو میں
سوال
زندگی کے بیمہ کے سلسلہ میں ۱۱ر دسمبر اور ۱۴ دسمبر ۶۵ عہ کو قومی آواز میں یہ نکلا تھا کہ ملک بھر کے مولانا مولوی صاحبان کے غور وفکر کے بعد یہ مان لیا گیا ہے کہ زندگی کا بیمہ جائز ہے اور مسلمانوں کو اس میں بڑھ کر حصہ لینا چاہئے، کیا اس سلسلہ میں آپ اپنی رائے دے سکتے ہیں، جس سے کہ میں دوسروں کو کچھ بتا سکوں۔
جواب
اگر قومی آواز میں ایسا شائع ہوا ہے تو وہ غلط ہے، آپ لکھنو مدرسہ ندوۃ العلماء سے وہ تجویز منگا کر دیکھیں جس میں ان علماء کے نام لکھے ہیں، جنہوں نے اس کو بالکل ناجائز اور حرام قرار دیا ہے، اور ان کے بھی نام لکھے ہیں جنہوں نے اس کی اجازت دی ہے، اور اجازت کے لئے جو شرطیں لکھی ہیں ان کو بھی دیکھیں، تو اصل حقیقت معلوم ہو جائے گی، تجویز چھپی ہوئی ہے، بلا قیمت مل جائے گی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔