مسلم فنڈ کی رقوم کو بینک یا ڈاکخانہ میں رکھنا
سوال
علاقہ بنجھار پور ضلع کٹک کے چند نو جوانوں نے جمعیۃ علماء ہند کے اس میں داخل شده تمام رقوم امانت کی حفاظت کا فی الحال کوئی ذریعہ نہ ہونے کی وجہ سے اراکین مسلم فنڈ نے مشورہ کر کے ڈاکخانہ میں یہ رقوم جمع کر کے پاس بک کھلوا لیا ہے، آئندہ ارادہ ہے، کہ جب فنڈ کی آمدنی معتد بہ ہوگی تو اس کی حفاظت کا انتظام بھی اپنے طور پر کر لیا جائے گا، اس پر بعض ممبران کو اعتراض ہے کہ رقوم امانت کا ڈاکخانہ یا بینک وغیرہ میں جمع کرنا جائز نہیں، چونکہ گورنمنٹ ان رقوم کے اندر تصرف کرتی ہے، اور امانت کے اندر تصرف جائز نہیں، یہ ہے مبنی…
جواب
امانت عامہ دوقسم کی رکھی جاتی ہے، ایک نوٹ کی شکل میں دوسری سونے، چاندی یا زیور کی شکل میں، دوسری قسم کو تو بعینہ محفوظ رکھا جاتا ہے، اس میں تصرف نہیں کیا جاتا، پہلی قسم میں تصرف کیا جا سکتا ہے، آپ مسلم فنڈ سے براہ راست تحقیق کر لیں کہ اس کا کو نسا سر مایہ خزانہ دار العلوم یا رجسٹر ڈ بینک میں محفوظ رہتا ہے، یہ ظاہر بات ہے کہ امانت کو بعینہ محفوظ رکھنا ضروری ہے، اس میں تصرف جائز…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔