پرانی قبروں کو مسجد میں شامل کرنا
سوال
میں نے یہ حدیث بیان کی ہے ان لوگوں نے انکار کیا پھر میں نے علیحدگی اختیار کی ہے۔ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمُ مِنْهُ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ انْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ (متفق عليه، مشكوة ص ۶۹ جار) میرا کیا حکم ہے اس مسجد میں اگر نماز ادا کروں تو جائز ہے یا نہیں کیونکہ کچھ پرانے بوڑھوں سے شہادت ملی ہے کہ پہلے یہ مسجد چھوٹی تھی۔
جواب
اس حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ قبروں کو سجدہ نہ کیا جائے ان کو معبود نہ بنایا جائے۔ اگر قبر پرانی ہو اور اس کی جگہ ہموار کر کے داخل مسجد کر لیا جائے اور قبر کا نشان باقی نہ رہے تو وہ اس حکم میں داخل نہیں۔ بخاری شریف کی شرح عمدۃ القاری میں لکھا ہے کہ قبرستان پرانا ہو گیا میت باقی نہیں رہی اور وہاں دفن کا سلسلہ بند ہو گیا تو اس جگہ کو مسجد بنالینا شرعاً درست ہے کیوں کہ قبرستان…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔