الإِسْلَامُ بَدَءَ غَرِيباً
سوال
الاسلام بدء غریباً کا کیا مطلب ہے؟
جواب
اسلام کی بتائی ہوئی باتیں عقائد، اخلاق، اعمال، عبادات کو جس طرح لوگوں نے ابتداء اجنبی سمجھا اور تعجب اور انکار کی نظروں سے دیکھا اسی طرح بعد میں بھی لوگ اجنبی سمجھیں گے اور تعجب و انکار کی نظروں سے دیکھیں گے اس پر فرمایا گیا ہے۔ فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ غُرَبَاءُ قَالَ الَّذِينَ يُصْلِحُونَ عِنْدَ فَسَادِ النَّاسِ (الحديث)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔