شرب قائماً اور اکل ماشیاً کی احادیث میں رفع تعارض
سوال
مذکورہ احادیث میں کھڑے ہو کر پینے کی دو حدیث سامنے ہیں۔ زید کہتا ہے کہ چونکہ آنحضرت ﷺ نے کھڑے ہو کر کھانے پینے کو منع کیا ہے اس لئے کھڑے ہو کر نہیں کھانا چاہئے۔ چنانچہ زید نے ایک مرتبہ عمر کو کھڑے ہو کر پانی پینے کی حالت میں دیکھا تو منع کیا اور کہا ایسا کرنے والا گنہگار ہے۔ زید کا یہ بھی کہنا ہے کہ بے شک کھڑے ہو کر پانی پینے کی احادیث موجود ہیں۔ لیکن جب حضور ﷺ نے منع فرمایا تو امت کو کھڑے ہو کر پینے کا حق نہیں۔ عمر کا کہنا ہے کہ جب کھڑے ہو کر پانی پینے کے بارے میں احادیث موجود ہیں تو پینا درست ہے۔
جواب
دونوں قسم کی احادیث کے تعارض کو رفع کرنے کے لئے شراح حدیث نے متعدد طرق اختیار کئے ہیں۔ ایک یہ کہ نہی تحریم کے لئے نہیں بلکہ اس سے مقصد ادب ہے۔ دوم یہ کہ اس میں نسخ ہے پھر بعض نے نہی کو ناسخ مانا ہے بعض نے اس کا عکس مانا ہے، سوم یہ کہ محرم اور مبیح میں تعارض ہو تو ترجیح محرم کو ہوتی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔