الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اٹک اٹک کر قرآن شریف پڑھنے والے کا اجر

سوال

نسائی اور ابن ماجہ کے باب فضائل قرآن شریف میں جو یہ حدیث آئی ہے کہ اٹک اٹک کر پڑھنے والے کو دہرا ثواب اور جو تیز پڑھتا ہے اس کو اکہرا ثواب ملتا ہے یہ عقل کے خلاف اور انصاف کے خلاف ہے یا نہیں؟ محدثین نے اس کا کیا جواب دیا ہے۔ مہربانی فرما کر جواب صاف اردو میں مفصل و مدلل دینا چاہئے۔فقط بینوا توجروا۔

جواب

چونکہ اٹک اٹک کر پڑھنے میں مشقت زیادہ ہوتی ہے اس لئے فرمایا ہے کہ ایسے شخص کو دو اجر ملیں گے ایک پڑھنے کا اجر دوسرا مشقت کا اجر۔ جو شخص روانی سے پڑھتا ہے اس کو مشقت نہیں ہوتی تو اس کو صرف پڑھنے کا اجر ملے گا اور اس سے مقصود قرآن شریف کی طرف توجہ اور رغبت دلانی ہے جو شخص ماہر ہے اٹک کر نہیں پڑھتا وہ افضل ہے اگر چہ اس کو مشقت کا اجر نہیں ملتا لیکن اس کا اجر بھی اٹک کر پڑھنے والے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو