الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

كُنتُ كنزاً مخفيا الحديث

سوال

ایک مولوی صاحب نے ایک حدیث بیان کی تھی کہ کنت کنزاً مخفياً فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَعْرَفَ فَخَلَقْتُ الْخَلْقَ الخ“ اور اس حدیث کا مطلب یہ بیان کیا تھا کہ تمام اشیاء کے ساتھ اللہ تعالیٰ لگے ہوتے ہیں۔ کیا ایسا مطلب لینا صحیح ہے۔؟ برائے مہربانی اطلاع فرمائیں۔ نوٹ: حضرت شیخ الہند نے اپنے ترجمہ قرآن مجید میں سورہ طلاق کی آخری آیت ” إِنَّ اللَّهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْماً “ کے بارے میں حاشیہ میں تحریر فرمایا ہے کہ کنت کنزا الخ “ گو یہ حدیث محدثین کے نزدیک صحیح نہیں ہے۔ غالبا یہ حدیث اس آیت سے مستفاد ہے۔

جواب

اگر ان مولوی صاحب کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حق تعالیٰ شانہ کی معرفت دنیا کی ہر ہر شئی سے ہو سکتی ہے اور ہر شئی سے وجود خداوندی اور قدرت خداوندی پر استدلال کیا جا سکتا ہے تو یہ معنی لینا درست ہے لیکن لفظ غیر محتاط ہے۔ حضرت شیخ الہند کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ کنت کنزا مخفی یا اس قسم کی جو چیزیں زبانوں پر یا اوراق میں پائی جاتی ہیں ان کا منشاء اور ماخذ یہ آیت بن سکتی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو