زلزلہ کے اسباب حدیث اور قول فلاسفہ میں تعارض
سوال
زلزلہ کے شرعی نقطۂ نظر سے کیا کیا اسباب و علل ہیں اگر کثرت معاصی اس کے اسباب قرار دیئے جائیں تو کوئی صحیح حدیث رسول اللہ ﷺ بھی اس کے متعلق منقول ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو مع حوالہ تحریر فرمائیں۔ تو پھر حدیث کے مقابلہ میں فلاسفہ اور سائنسدانوں کے نظریہ کا کیا جواب ہوگا جو اس بات کے مدعی ہیں کہ زمین کے سوراخوں میں ہوا داخل ہو جاتی ہے اور وہ دفعتاً نکلنا چاہتی ہے تو نکل نہیں سکتی۔ پھر اس کی تیزی کی وجہ سے زمین میں زلزلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ نیز سائنسدانوں نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ زمین کے نیچے أجزاء ناریہ ہیں۔
جواب
(۱) احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ قیامت کے قریب بکثرت زلزلے آئیں گے۔ زلزلہ قیامت کا تذکرہ قرآن کریم میں بھی ہے۔ إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ، حضور اکرم ﷺ کے سامنے بھی زلزلہ آیا جس پر ارشاد فرمایا کہ ابھی وقت نہیں آیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے بصراحت اس کا سبب کثرت ذنوب کو فرمایا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔