كُنتُ نبياً وادم پر اشکال
سوال
كنت نبياً و آدم بين الخ کیا یہ درست ہے؟ حدیث شریف کا مطلب وضاحت سے فرمائیں۔ اگر آپ ازل سے نبی تھے تو پھر حق کی تلاش میں کم و بیش چالیس ۴۰ دن تک غار حرا میں کیوں بیٹھے رہے؟ اور وَوَجَدَكَ ضَالَّا کس لئے ارشاد ہوا؟ پہلی وحی کے بعد کیوں آپ خائف ہوئے، اور زملُونی فرماتے ہوئے گھر تشریف لے گئے۔ اور پھر حضرت خدیجہ نے تسلی و تشفی دی، حضرت نوفل کے پاس لے گئیں۔ تو یہ باتیں ازلی نبوت کے منافی معلوم ہوتی ہیں۔
جواب
یہ روایت درست ہے۔ اس کی تشریح اس طرح ہے۔ قدجاء ان الله تعالى خلق الارواح قبل الاجساد فقدتكون الاشارة بقوله كنت نبياً الى روحه الشريفة والى حقيقته والحقائق تقصر عقولنا عن معرفتها وانما يعلمها خالقها ومن امده بنور الهى ثم ان تلك الحقائق يوتى الله كل حقيقة منها مايشاء في الوقت الذي يشاء فحقيقة النبى صلى الله عليه وسلم قد تكون من قبل خلق ادم اتاها الله ذلك الوصف بان يكون خلقها…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔