الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تدبر اور بلا تد بر تلاوت میں فرق

سوال

دو آدمی ہیں ایک ناظرہ قرآن شریف پڑھنے والا، اور ایک عالم آدمی ہے جس نے عربی تعلیم صرف و نحو کے ساتھ پڑھا ہے، ناظرہ پڑھنے والے کو دس نیکیاں ہیں ایک حرف پر۔ یہ اگر ترجمہ کے ساتھ پڑھے تو ایک حرف پر کتنی نیکیاں ملیں گی؟ دوسرے وہ شخص جو عالم ہے اب تلاوت کرنے پر کتنا ثواب ہے ہر حرف پر؟ اگر ترجمہ کو خیال و تصور میں لائے اور اگر نہ لائے اور حافظوں کی طرح تیز رفتاری کے ساتھ پڑھ رہا ہے اور خیال کہیں اور ہے تو کتنا ثواب ملے گا۔ کیا پہلی صرف و نحو والی کمائی اب کام دے گی؟

جواب

جو شخص جس قدر زیادہ تدبر کے ساتھ عظمت قرآن کریم کا لحاظ کرتے ہوئے تلاوت کرے گا اسی قدر زیادہ ثواب پائے گا۔ تدبر کے لئے صرفی صیغوں اور نحوی ترکیبوں کا ذہن میں آنا کافی نہیں۔ بلکہ کلام اور متکلم کی جلالت شان اور آیات رحمت و آیات عذاب پر رجاء وخوف اور اوامر ونواہی پر عزم عمل واجتناب وغیرہ اثرات کا پیدا ہونا تدبر کا ثمرہ ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو