بوسیدہ کتب کا حکم
سوال
در مختار میں ہے کہ اگر کتب پرانی ہو جائیں اور قابل استفادہ نہ رہیں تو اللہ جل شانہ اور انبیاء ملائکہ کے اسماء محو کر کے بقیہ کو جلا دیا جائے اور شامی میں جو قرآن مجید قابل تلاوت نہ ہو اس کے متعلق لکھا ہے۔ لا يحرق و به ناخذ پس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے اگر قرآن کو جلانے کی روایت صحیح ہے تو اس کا کیا جواب ہوگا؟
جواب
شرح سیر کبیر ص ۲۷۷ رج ۲ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب اس امر کے متعلق لکھا ہے۔ لا یکاد یصح اور لا اصل لذلک الحدیث اه لیکن یہ قصہ بخاری شریف میں مذکور ہے اس لئے سند کے اعتبار سے اس کو بے اصل کہنا دشوار ہے۔ حافظ عینی نے متعدد توجیہات بحوالہ کرمائی نقل کر کے روایت احراق کو تسلیم کیا ہے اور حنفیہ کا مذہب وہی نقل کیا ہے جو شامی میں ہے فیض الباری ج ۴ ص ۲۶۴ میں ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔