الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

استاذ کرسی پر بیٹھے اور بچے ٹاٹ پر، اس کا کیا حکم ہے؟

سوال

ہمارے یہاں ایک دینی مدرسہ ہے اس میں مولوی صاحب تو کرسی پر بیٹھتے ہیں اور ان کے سامنے بچے قاعدہ بغدادی اور قرآن شریف وغیرہ لے کر نیچے ٹاٹ پر بیٹھتے ہیں۔ یہ طریقہ تعلیم خلاف شرع ہے یا نہیں؟ بچے آتے ہیں اور کھڑے ہو کر میز پر قرآن شریف رکھ کر سبق لے کر چلے جاتے ہیں۔ قرآن عظیم کی بے حرمتی کرنے والے کے لئے شرعاً کیا حکم ہے؟

جواب

تعلیم کا یہ طریقہ کہ قرآن کریم لے کر بچے ٹاٹ پر یا فرش پر بیٹھیں اور استاذ وہیں کرسی پر تشریف رکھیں خلاف سنت ہے اور احترام قرآن عظیم کے بھی خلاف ہے اس کی اجازت نہیں۔ ایسی حالت میں استاذ محترم کو چاہئے کہ کرسی وہاں سے ہٹادیں اور نیچے ہی بیٹھ کر تعلیم دیا کریں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو