الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بوسیدہ قرآن کریم لپیٹ کر رکھ دینا دفن کرنے کے لئے بے ادبی نہیں

سوال

زید نے پرانے قرآن پاک کو جو کہ بہت ہی خستہ ہو گیا تھا اکٹھا کر کے ایک کپڑے میں اس نیت سے باندھ کر رکھ دیا کہ اس کو کسی کنویں یا تالاب میں ٹھنڈا کر دیا جائے گا۔ اس پر زید کی بیوی نے بہت فریاد شور و غل کیا اور زید کو برادری میں بدنام کیا کہ زید نے قرآن پاک کی توہین کی ہے۔ زید کا اور اس کی بیوی کا کسی اور معاملہ میں اختلاف ہے۔ براہِ کرم مطلع فرمائیں زید نے کسی قسم کا گناہ کیا یا نہیں؟ یا اس کی بیوی نے گناہ کیا یا نہیں؟

جواب

جو قرآن پاک بہت بوسیدہ ہو جائے اور استعمال میں نہ آسکے تو اعلیٰ بات یہ ہے کہ اس کو کپڑے میں لپیٹ کر قبر بنا کر اس میں محفوظ جگہ دفن کر دیا جائے کسی کنویں یا تالاب وغیرہ میں بھی اس طرح ٹھنڈا کر دینا درست ہے کہ اس کے اوراق نیچے بیٹھ جائیں اور بے ادبی نہ ہو۔ اگر زید کا مقصود یہی تھا تو اس نے کوئی جرم کا کام نہیں کیا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو